سیلاب متاثرہ علاقے، 35 لاکھ بچے اسکول جانے سے محروم

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے متاثر 35 لاکھ بچے اسکول جانے سے محروم ہیں، 2 لاکھ 80 ہزار سے زائد حاملہ خواتین طبی امداد سے محروم ہیں۔

پاکستان میں سیلاب متاثرین کی ابتر صورتحال پر اقوام متحدہ نے رپورٹ جاری کردی، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ کے 11 اور بلوچستان کے 2 اضلاع میں تاحال سیلابی پانی کھڑا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو اضلاع تاحال سیلابی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں ان میں سندھ کے دادو، قمبر شہداد کوٹ، خیرپور، میرپور خاص، جامشورو، سانگھڑ، عمر کوٹ، بدین، شہید بے نظیر آباد اور نوشہرو فیروز، اور بلوچستان کے صحبت پور اور جعفر آباد شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 80 لاکھ افراد سیلابی پانی سے متاثر ہیں، سندھ میں سیلاب سے متاثرہ ڈھائی لاکھ افراد تاحال بے گھر ہیں، 90 فیصد سیلاب متاثرین عارضی رہائش گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سیلاب متاثرہ 2 لاکھ 80 ہزار سے زائد حاملہ خواتین طبی امداد سے محروم ہیں، 35 لاکھ سے زائد بچے اسکول جانے سے محروم ہیں، 5 لاکھ 20 ہزار سے زائد بچے خوراک کی شدید کمی کا شکار ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سیلاب متاثرین کے لیے 816 ملین ڈالرز درکار تھے، اب تک صرف 30 فیصد رقم مل سکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں